اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، ایرانی صحافی محمد ایمانی نے سوال اٹھایا ہے کہ طوفان الاقصی کے
حوالے سے یہ باتیں کیوں اہم ہیں، اور لکھا ہے:
نیتن یاہو پانچ دنوں سے پیچ و تاب کھا رہا ہے، غل غپاڑہ مچا رہا ہے۔ غزہ پر زمینی حملے کی شیخیاں بگھار رہا ہے، لیکن یہ نہیں بتا رہا ہے کہ وہ کونسی صلاحیت کی بنیاد پر ایسا کرے گا؟ اس کی فوج کا شیرازہ ـ پہلے ہی دن کے پہلے کے پہلی ضرب کے طاقتور جھٹکے سے ـ بکھر گیا ہے۔
غزہ کی سرحدوں پر پٹی ہوئی یونٹیں ویسے بھی خوف اور پریشانی سے دوچار ہیں، لیکن یہ صورت حال وہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کے اندرونی تہہوں تک سرایت کر گئی ہے؛ اور اب یہ فوج پکے ہوئے تربوز کی طرح ہے، چھری کے ایک اشارے کا منتظر، آخر تک کٹ جانے کے لئے۔
آخر یہاں شہادت اور اخروی حیات کی تو کوئی بات نہیں ہے، چنانچہ کند ذہن ترین صہیونی فوجی بھی، اس ہلاکت خیز جال میں قدم رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جہاں جانا تو اپنی مرضی سے ممکن ہے لیکن پلٹ کر آنا، ان کی مرضی کے مطابق نہیں ہے۔
صہیونی فوجیوں کا کیا قصور! فلسطینی مقاومت نے اسرائیل کی انٹیلیجنس، جنگی اور دفاعی مشینری کو ایک ہی وار میں ڈھیر کر دیا، اور کئی ہزار افراد صہیونی ہلاک کر دیئے؛ اور یقینی امر ہے کہ ان ہی مجاہدوں کو پاس اور بھی کئی حیرت انگیز ترکیبیں ہونگی نیتن یاہو کی پیدل یونٹوں اور بری فوج کو حیرت زدہ کرنے کے لئے۔
نیتن یاہو خوفزدہ ہے، اگر خوفزدہ نہ ہوتا تو یقینا مکمل حفاظتی اقتدامات کے سائے میں غزہ کی سرحد سے چالیس پچاس کلومیٹر دور تک کے علاقے تک چلا جاتا، اور اگلے مورچوں کے قریب اپنی ٹوٹی پھوٹی ہوئی فوج کی بکھری ہوئی صفوں کا معائنہ کرنے کے لئے پہنچ جاتا، اور چند منٹوں کی ویڈیو رپورٹ بنوا کر مضطرب صہیونی فوجیوں کو کچھ تو حوصلہ دیتا۔
یہ اسلام اور یہودیت میں کمانڈ اور کنٹرول کا فرق ہے۔ شہید جنرل قاسم سلیمانی، اور محمد ضیف کا ایک جوتا بھی نیتن یاہو اور یوآف گالانت (Yoav Gallant) کے سر سے زیادہ ہے۔ اسی اثناء میں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان ہی سخت کشمکشوں میں مسلم سپہ سالاروں اور صہیونی کمانڈروں کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔
صہیونی حصاروں اور قلعوں کے پیچھے رہے بغیر نہیں لڑ سکتے۔ ہم پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں کہ صہیونی کمانڈ روم کے اندر کیا ہو رہا ہے اور کیا کہا جا رہا ہے۔ یہ ایک ٹاپ سیکرٹ خبر ہے جو خدائے متعال نے سید المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دی ہے
صهیونیست ها قادر نیستند جز از پشت حصار قلعه ها و دژها، بجنگند. ما با جزئیات، از آنچه در اتاق فرماندهی صهیونیست ها می گذرد، خبر داریم. این خبر "بکلّی سرّی" را خداوند متعال با پیامبر (ص) در میان گذاشته است:
"لَا یُقَاتِلُونَکُمْ جَمِیعًا إِلَّا فِی قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاءِ جُدُرٍ بَأْسُهُم بَیْنَهُمْ شَدِیدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِیعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ذَلِکَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُونَ؛
[اے میرے رسول(ص)!] یہ سب کبھی بھی مل کر آپ سے جنگ نہیں کریں گے مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہوں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کا اختلاف خود آپس میں بہت سخت ہے۔ آپ انہیں سب اکٹھا دیکھتے ہیں، حالانکہ دل ان کے الگ الگ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے"۔ (سورہ حشر، آیت 14)
سیاست کے پس پشت بہت کچھ ہے جو ظاہر نہیں ہؤا ہے۔ بہت جلد وہ دن آنے والے ہیں جب نیتن یاہو کے خلاف انتہائی تند و تیز اور تحقیر آمیز احتجاجی مظاہرے ہونگے، جنگ میں اس کی نااہلی کے خلاف احتجاج ہوگا اور تنقید و اعتراض کی لہر سیاست کے پس پشت راہداریوں سے نکل کر سڑکوں پر بہہ نکلے گی، صہیونی ذرائع اور صہیونی جماعتیں اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں گی۔
............
بقلم: محمد ایمانی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
mshrgh.ir/1535019